میں جو دن بھی کہوں رات، وہ اقرار کرے
مجھ کو حسرت ہے کوءی یوں بھی مجھے پیار کرے
میری خاطر وہ سہے دنیا کے طعنے، دھکے
ننگے پیروں سے وہ صحراؤں کے کانٹے چکھے
مجھ کو پانے کےلیے جون کے روزے رکھے
میں ہوں دیوانہ سو دیوانوں سا اظہار کرے
میں جو دن بھی کہوں رات، وہ اقرار کرے
مجھ کو حسرت ہے کوءی یوں بھی مجھے پیار کرے