امریکہ کی پوری قیادت، یا کم از کم وہ قیادت جو پاکستان سے ڈیل کر رہی ہے، وہ آج کل پنجے جھاڑ کر پاکستان کے پیچھے پڑ ی ہوئی ہے۔ یہ پہلی دفعہ نہیں کہ امریکی قیادت نے پاکستان کو براہ راست دھمکی دی ہو، یہ لوگ پہلے بھی پاکستان کو کبھی پتھروں کے دور میں پہچانے کی دھمکی دے چکے اور کبھی ڈیورنڈ لائن کو اٹھا کر اٹک تک لے کر آنے کی۔ لیکن کیسی بات ہے کہ پاکستان کی عسکری اور فوجی قیادت تا حال منہ میں گھگھنیاں ڈالے بیٹھی رہی، اور اس ضمن میں سب سے مجرمانہ کردار واشنگٹن میں متعین پاکستانی سفیر کا رہا ہے، کہ وہ اپنی داتی پبلک ریلیشن کی ایجنسی، سی آر ایس ، کے لیے امریکی ڈالرز میں بزنس سمیٹنے کے علاوہ شائد اور کچھ کرنے کے لیے وقت نہیں نکال پا رہے اور اس محاذ پر مسلسل پسپائی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قسمت میں لکھ دی گئی ہے۔
شائد امریکیوں کوماضی کی تاریخ کے پیش نظر اندازہ بلکہ یقین ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی ان کی گیدڑ بھبھکیاں کام کر جائیں گی اور پاکستان کی قیادت ہمیشہ کی امریکی مفادات کے لیے اپنے بے گناہ، معصوم اور جاہل عوام کا سستا خون امریکی جنگ میں مزید جھونکنے کے لیے تیار ہو جائے گا۔
امریکی قیادت کی اب تک کی خامہ فرسائی کا سارے کا سارا نشانہ پاکستان کی پریمیر ایجنسی آئی ایس آئی رہی ہے، جو دراصل بھارتی اور اسرائیلی ایجنڈا ہے۔ اس کا اظہار حالیہ جاری کی گئی اس رپورٹ سے بھی ہوتا ہے جس میں پاکستان کو ایک ناکام اور اندرونی خلفشار کا شکار ریاست قرار دیتے ہوے اس کے ایٹمی اثاثوں کو قبضہ میں لے کر ان کو دوسرے ملک میں منتقل کرنے کی ہرزہ سرائی ایک بار پھر دہرائی گئی ہے۔یہ سودا بھارت اور اس کے زیراثر امریکی ادارے کافی عرصے سے بیچنے کی کوشش کرتے چلے آ رہے ہیں۔ تف ہے ان میڈیا کے لوگوں کی عقل پر کہ، کاتا اور لے دوڑی، کے مصداق وہ اس طرح کی کسی بھی رپورٹ کو شائع اور پروپیگیٹ کرتے وقت یہ بات اپنے سامعین، ناظرین اور قارئین کو بتانے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ منصور کے پردے میں کون بول رہا ہے؟
اس طرح کی بکواس اس سے قبل فیڈریشن آف انڈین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری یعنی فکی کی رپورٹ میں بھی کی جا چکی ہے جو بعد ازاں ان کی ویب سائیٹ سے ہٹا لی گئی تھی۔ حد تو یہ تھی کہ کس طرح بھارت کی صنعت و تجارت کی نمائندہ تنظیم نے اپنی حدود و قیود سے تجاوز کر کے ہماری سکیورٹی کے اداروں اوران کے کردار پر خامہ فرسائی کی تھی۔ بھارتی گھٹیا ذہنیت کا شاندار مظہریہ رپورٹ اب الفاط بدل کر، تھوڑی سی ردوقدح کے بعد براستہ واشنگٹن پھر سے ریلیز کی گئی ہے ااور اس کے ذریعے دنیا میں پاکستان کو برائی کا مرکز ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کے پریمیر اداروں اور سب سے بڑے اعزاز یعنی ایٹمی طاقت کو خاس طور پر نشانے پر رکھا گیا ہے۔ایسے میں تمام محب وطن افراد اور خاص طور پر اہل قلم کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان اداروں کے دفاع میں خم ٹھونک کر کھڑے ہوں اور اس بھارتی پراپیگنڈے کا توڑ کریں لیکن۔۔۔۔۔ کس منہ سے۔
کچھ سال پہلے کا ذکر ہے کہ میرے بہت پیارے دوست جناب ضیاء اللہ مرزا اور میں وطین ٹیلی کام کے بڑے ہال کے ایک چھوٹے سے کونے میں بیٹھے ادارے کی ویب سائیٹ ڈیپارٹمنٹ میں کام کر رہے تھے۔ میں دنیا ٹی وی کے مارننگ شو میں شرکت کر کے سیدھا دفتر آ گیا تھا کہ شہر کے مرکز میں آنے کے بعد صرف دو گھنٹے کے لیے گھر جا کر واپس آنے میں گاڑی کی اور اپنی، دونوں توانائیاں صرف ہوتی تھیں، اس لیے توانائی کے موجودہ بحران میں ان دونوں توانائیوں کو بچانے کا آسان اور تیر بہدف نسخہ یہی تھا کہ چھٹی تک دفتر میں ہی قیام کیا جائے اور شام کو چھٹی کے وقت ہی گھر کی راہ لی جائی۔ اسی اثناء میں مرزا صاحب کو نامعلوم نمبر سے کال آئی۔ یعنی وہ خصوصی نمبر جن کی شناخت کال وصول کرنے والے کے سیٹ پر ظاہر نہیں ہوتی۔ مرزا صاحب کے ایک پرانے سورس، جو اب اس ایجنسی میں ترقی کی منزلیں طے کر کے اعلی عہدے پر پہنچ چکے تھے، ان سے مخاطب تھے اوردنیا ٹی وی کے اس پروگرام میں جو میں ابھی ابھی کر کے آیا تھا، اس میں میرے ، متحدہ قومی موومنٹ کے حوالے سے دئیے گئے ریمارکس پر خاصے ناخوش تھے۔ مرزا صاحب نے موبائل سیٹ کا سپیکر آن کر کے میز پر رکھ دیا۔ پہلے تو ان حضرت نے میرے ان خیالات کی بناء پر میری اور میرے بچوں کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جو کہ ظاہر ہے ایک بالواسطہ دھمکی تھی۔ جب انہیں مرزا صاحب نے یقین دلا دیا کہ ہمارا دوست ان باتوں سے ماورا ہے تو پھر وہ ایجنسیوں کے روائتی طریقہ کار کے تحت لالچ دینے پر اتر آئے۔ فرمانے لگے میں ان کی متحدہ سے صلح کروا دیتا ہوں۔ ان کو متحدہ کے پے رول پر لے آتے ہیں، وہ پیسے دینے کے معاملے میں ایماندار بھی ہیں اور باقاعدہ بھی۔ اس جوش میں وہ صاحب لاہور شہر کے جید صحافیوں کے نام بھی لے گئے جن کی انہوں نے متحدہ سے ڈیل کرائی گئی تھی اور اب یہ صحافی، اینکرز اور کالم نگار غم روزگار سے ماورا ہو کر صحافت کے میدان میں رو بہ عمل تھے۔ (یہ وہی لوگ ہیں جن کو متحدہ نے اپنی لاہور میں آورد کے بعد اعزازات سے نوازا تھا اور جن اینکرز نے متحدہ کے شہدا ء کے ڈراموں پر مشتمل شو سٹیج کیے تھے)۔
مرزا صاحب ، جو مشتاق یوسفی کے مرزا کی طرح میرے یار غار اور میرے ذاتی اور پیشہ ورانہ حالات سے آگاہ اور ان کے بارے میں پریشان ہونے والے دوست ہیں ، فرمانے لگے بھئی انہی کی وجہ سے تو ہمارے ببر شیر (مرزا صاحب کا تکیہ کلام) کو سی این بی سی چھوڑنا پڑا تھا، وہ اب کس منہ سے ان کی کاسہ لیسی کر سکے گا۔ تو دوسری طرف سے آواز آئی کہ چلیں پھر ان کو مشرف صاحب کی (نوزائیدہ) مسلم لیگ میں ایڈجسٹ کرا دیتے ہیں، وہ تو ادائیگی بھی فارن ایکس چینج میں کریں گے۔ مرزا صاحب نے جب پھر پہلے والا جواب دہرایا تو دوسری طرف سے اصرار کیا گیا کہ مجھ سے پوچھ لیا جائے تو بہتر ہو گا اور پھر فون منقطع ہو گیا۔ ظاہر میرا جواب وہی تھا جو مرزا صاحب پہلے ہی دے چکے تھی۔ زندگی میں اب تک جو تھوڑی بہت عزت کمائی ہے اس کی قربانی اور ضمیر کے مسلسل چرکے سہنے سے بہتر ہو گا کہ آدمی فاقوں مر جائے۔
اے طائر لاہوتی اس موت سے رزق اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
یا پھر
لیلی بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
یہ گفتگو جب میں نے گزشتہ مئی میں نیشنل ڈیفیس یونیورسٹی میں منعقدہ ایک میڈیا ورکشاپ میں تقریر کے لیے آنے والے ایک پاکستانی ایجنسی کے سابق سربراہ کے گوش گزار کی اور عرض کیا کہ آپ اس طرح کی گھٹیا اور قبیح سرگرمیوں میں کیوں ملوث ہوتے ہیں توموصوف کمال تجاہل عارفانہ سے فرمانے لگے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ جو کوئی بھی صاحب ہوں، وہ ریٹائرمنٹ کے بعد ان سرگرمیوں میں ملوث ہوگئے ہوں ، حاضر سروس لوگ ایسی حرکت نہیں کر سکتے۔ واہ واہ، کیا توجیح پیش کی حضرت نے۔ اگر ایسا تھا تو یہ اس سے بھی بڑی خوفناک بات تھی اور ہے کہ یہی تو وہ الزام ہیں جس کی گردان امریکی اور بھارتی میڈیا، پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف دن رات کرتے نہیں تھکتا ۔ یعنی کہ اس ایجنسی کے سابق عہدیداران پاکستان سے ایٹمی ہتھیار اور دہشت گردی برآمد کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
مندرجہ بالا ان سطور کا مقصد کسی کی پگڑی اچھالنا یا خود کو دنیا کا سب سے پاکباز اور حاجی لق لق ثابت کرنا مقصود نہیں بلکہ اس واقعے کو اپنی آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کرنا ہے تا کہ ہمارے بعد وہ بھی تو بزرگوں کر کردار پر رشک اور فخر کر سکیں۔ اسی ادھیڑ بنے میں، جب کہ ہلکے ہلکے بخار نے بھی آن لیا تھا، اور ڈینگی کے اس ماحول میں کسی قسم کا رسک نہیں لیا جا سکتا تھا، میں براستہ شوکت خانم لیبارٹری، دادا جی کی محفل میں لینڈ کر گیا۔
دادا جی ڈینگی کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی جانوں کے زیاں پر متفکر تھے اور کسی گہری سوچ میں گم حقے کے کش لگا رہے تھی۔ ہمیشہ کی طرح مجھے دیکھ کر ان کے چہرے پر طمانیت اور خوشی کے جذبات ابھری۔
میں جب تمام حالات عرض کیے اور راہنمائی کا طالب ہوا تو فرمانے لگے کہ ان حالات میں پاکستان کے اس پریمیم ادارے کی میڈیا کے فرنٹ پر مدافعت کون کرے اور کیوں کرے۔ وہ کریں جن کو وہ ماہانہ بھتہ دیتے یا جن کی تالیف قلب کے لیے ادائیگیاں کراتے ہیں ، لیکن بیٹا جی اگر گھوڑے نے پہلے پھونک مار دی تو؟
میں ہونقوں کی طرح سوالیہ نظروں سے ان کے منہ کی طرف دیکھا تو فرمانے لگی، جو شخص بکاؤ مال ہے تو پھر وہ تو اسی کے گن گائے گا نا جو اس کو زیادہ مال لگائے گا، اگر آپ نے لوگوں کو ایک دفعہ بکنے کی لت لگا دی تو اب تو وہ بکاؤ مال ہو گیا اور اس کو ہروہ شخص خرید سکتا ہے جس کے پاس آپ سے زیادہ ادائیگی کی صلاحیت ہے ۔ دوسری طرف آپ نے محب وطن لوگوں اور اہل قلم کو مار مار کے، مار مار کے ان کو کسی کام کا نہیں چھوڑا۔ اب کھولیں نا اپنے لے پالکوں اور راتب خوروں کے پٹے ۔ اب کوئی آئی ایس آئی کی مدافعت ان حالات کے بعد کرے تو کیوں کرے، وہ کیوں اپنے نام کے ساتھ ایجنسیوں کا بندہ ہونے کا الزام لگوائے۔
لیکن دادا یہ جو مائیک مولن ہر روز پاکستان اور اس کے لوگوں پر الزام لگا رہے ہیں اور جس نے حساس پاکستانیوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں اس کا کیا حل ہے؟ تو اس پر دادا مخاطب ہوے اور کہنے لگے کہ ریٹائرمنٹ کے دن قریب آتے ہی اس کا دماغ چل گیا ہے۔ دیکھو تم جس کے رزق پر لا ت مارو گے وہ چیخے گا تو سہی۔ مولن صاحب کو امید تھی کہ وہ افغانستان کے محاذ سے ایسی کامیابی نکال کر امریکیوں کو دیں گے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی خصوصی ایلچی یا اس طرح کی دوسری نوکری پکی۔ لیکن اب ناکامی کا جھومرماتھے پر سجا کر وہ کیسے اپنے لیے نئی نوکری کے طلب گار ہو سکتے ہیں؟ اسی لیے وہ اپنی ناکامیوں کو پاکستان کے نام تھوپ کر نکلنا چاہ رہے ہیں۔ اس لیے اٹھتے بیٹھتے پاکستان کو کوسنے دے رہے ہیں کہ رہے رب کا نام۔
عرض کیا تو پھر ہم آئی ایس آئی یا اس جیسے اداروں کی مدافعت کیسے کریں؟ دادا فرمانے لگے کہ ان سے دور ہی رہو تو بہتر ہو گا کیوں کہ بزرگوں نے ان کی صحبت بد سے پرہیز بتایا ہے کہ
نہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھی۔