Daily Khabria Sargodha Pakistan
سرگودھا میں ذہنی معذور افراد کے لئے فاﺅنٹین ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔۔۔۔۔ سنگ بنیاد جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال نے رکھا۔۔۔۔ وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی ڈاکٹر اکرم چوہدری، جاوید اقبال اعوان ، ڈی سی او عظمت محمود اور سرگودھا کی معروف عوامی اور سماجی شخصیات نے تقریب میں شرکت کی : تازہ ترین خبریں
وہ آواز جو دل کے کیسٹ پر ریکارڈ ہوئی محمد فاروق عادل
یہ کالم 329 دفہ پڑھا جا چکا ہے تاریخ اشاعت:  23 اکتوبر ,2011
آپ گھر سے دور ہوں بلکہ برسوں سے دور ہوں۔جب آپ تنہا ہوں اور اداسی آپ کو آلے۔آپ کچھ پڑھنا چاہیں لیکن پڑھ نہ سکیں۔آپ لکھنے کی کوشش کریں لیکن قلم آپ کے ہاتھ سے پھسل جائے۔یادیں آپ پر یلغار کریں اور آنسو آپ کے گالوں کو تر کردیں۔ایسے میں کہیں دور سے اندھیروں میں تیرتی ہوئی کوئی آواز آئے ؎ ہم توہیں پردیس میں ،دیس میں نکلا ہوگاچاند اپنی رات کی چھت پر کتناتنہا ہو گا چاند تو آپ ہوتے تو وہیں ہیں،جہاں دیس سے دوری آپ کو اداس کردیتی ہے اور آپ بے بس ہوکر تکیے بھگوتے اور اپنے پیاروں کو یاد کرتے ہیں لیکن کوئی جادو سا ہوجاتا ہے اور آپ زن سے اپنے دیس میں جا پہنچتے ہیں۔ممکن ہے اَن دیکھے اُڑن کھٹولے پرغیر مرئی سفر کے اختتام پر آپ ایک بار پھر آبدیدہ ہوجائیں لیکن پھردل کو تسلی ہونے لگتی ہے اور آپ زندگی کی بے رحم دوڑ میں جم شریک ہوجاتے ہیں اور اداسی اور یاسیت سے گھبرا کر آپ شکست و ریخت کا شکار نہیں ہوتے۔ انیس سو چوراسی میں دو بڑے واقعات ہوئے۔اکتوبر میں بھارت کی وزیر اعظم اندراگاندھی اپنے ہی محافظوں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر گئیں اور دوسرے سرگودھا بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے ایف اے کے نتائج کااعلان کیا۔ان نتائج کی خاص بات یہ تھی کہ یہ نالائق اپنے گھر والوں کی توقع کے برعکس ان میں کامیاب ہوگیا اور وہ بھی سیکنڈ ڈویژن میں۔اب سوال پیدا ہو کہ’’ اتنی بڑی کامیابی ‘‘کے بعد کیا کیا جائے؟ وہ جو ہر انسان کے من میں ایک آرٹسٹ چھپا ہوا ہوتا ہے اس نے صلاح دی کہ آرٹسٹ بنناچاہئے۔میرے پیارے دوست طاہر علوی نے بھی میری رائے کو درست جانا اور ہم دونوں ایک روز اپنے اپنے بیگ کاندھوں پر لٹکائے لاہور جاپہنچے جہاں عجائب گھر کے پہلو میں سراٹھائے کھڑی ایک بھید بھری عمارت ہمیں بہت مسحور کیا کرتی تھی۔اس زمانے میں ہمیں فارسی کی شدبد تو نہ تھی(اب بھی نہیں ہی) لیکن اس کے باوجود اس عمارت کی پیشانی پر لکھا ایک مصرع ہمیں بہت متوجہ کیا کرتا ع کسب کمال کن کہ عزیز جہان شوی بس! عزیز جہاں بننے کی آرزو میں ہم دونوں نیشنل کالج آف آرٹس جاپہنچے۔ہماری آرزوئیں اپنی جگہ لیکن ابوالرضا محمود کاخیال کچھ اور تھا۔ابوالرضا طاہر کے بڑے بھائی کی حیثیت سے ہم سب کے بڑے بھائی تھے۔ انہیں ہمارے مستقبل کے فیصلے کرنے کا مکمل اختیار تھا۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہمیں کراچی جاناچاہئے۔بس، طاہر اور میں کراچی چلے آئے۔کراچی میں ہمارا بسیرا جامعہ کراچی کے ایوان ِاقبال میں تھا ۔ایوانِ اقبال کے چار بلاک اور بلند و بالا عمارت تھی لیکن یوں لگتا جیسے یہ صحرا کا کوئی حصہ ہو۔اگرچہ اس میں ایک ’’ نخلستان‘‘ بھی تھا لیکن مجموعی تاثر صحرا کا ہی تھا۔سمندرسے چلنے والی تیز ہوا اس ’’صحرا‘‘ میں پہنچ کرجب ان عمارتوں کی سیڑھیوں کی خالی جگہوں سے گزرتی تو تیز سیٹیوں کی آوازیں ایسے آتیں جیسے جنوں کی آگئی ہو۔ایسے میں سرگودھا سے آنے والے پردیسی کی اداسی مزید بڑھ جاتی اور وہ کمرہ نمبر ۴۳ میں اپنے بستر پر تھوڑااور سمٹ جاتا۔ کبھی راجہ گدھ میں پناہ لیتا اور کبھی اداس نسلیں اور آگ کا دریا میں۔ایسی ہی ایک اداس شام اندھیرے کو چیرتی ہوئی ایک پُردرد آواز کانوں سے ٹکرائی ؎ ہم توہیں پردیس میں ،دیس میں نکلا ہوگاچاند اپنی رات کی چھت پر کتناتنہا ہو گا چاند ان آنکھوں میں کاجل بن کر تیری کالی رات ان آنکھوں میں آنسوکا ایک قطرہ ہوگاچاند رات نے ایسا پیچ لگایا ،ٹوٹی ہاتھ سے ڈور آنگن والے نیم میں جا کر اٹکا ہوگا چاند اداسی کچھ اوربڑھ گئی۔میرے گھر میں نیم کا کوئی درخت تونہ تھا البتہ امرود کا ایک درخت ضرور تھا لیکن یہ اس قدر اونچا ہرگز نہ تھا کہ اس میں آسمان میں تیرتا ہوا چاند آکر اٹک جاتالیکن جس دن یہ آواز کان میں پڑی امرود کا درخت ہی نیم کا پیڑ بن گیا اور جب کبھی وہ چاند اداس ہوتا ،اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگتے اور کبھی وہ اداسی کے عالم میں ’’میرے گھر‘‘ کی نیم کے پھننگوں آاٹکتا۔بس ! اس دن کے بعد سے میری اداسی اس چاند نے بانٹ لی اور میری چاند سے دوستی ہوگئی اور اس کے ساتھ ہی چاند کے دل کا حال جاننے والی پردرد آواز سے بھی۔اِس واقعے سے پہلے آنکھوں میں آنسو تیرتے ضرور تھے۔اُس دن اِنہیں آنکھوں سے باہر نکلنا بھی نصیب ہوا لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد صورت حال بدل گئی۔وہ جو سینے میں درد کا طوفان چھپا رہتا تھا،اس پُردرد آواز کے کانوں میں پڑتے ہی مائع بن کر بہہ گیا اور تھوڑی دیر کے بعد پردیسی راجہ گدھ کی اوٹ سے نکل کر کیٹین جارہا تھا۔واضح رہے کہ ہاسٹل کی دنیا میں کیٹین جانا صحت مندی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ جگجیت سنگھ سے دوستی ہوئی تو بات آنگن والے پیڑ میں جاکر اٹکنے والے چاند سے آگے بڑھی اور میرے کیسٹ پلیئر سے اس طرح کی صدا بھی بلند ہوئی ؎ یہ دولت بھی لے لو،یہ شہرت بھی لے لو بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی مگر مجھ کو لوٹا دو پچپن کا ساتھی وہ کاغذ کی کشتی،وہ بارش کا پانی ہاسٹل کی زندگی جینے والے جب تھوڑے سمجھ دار ہوجاتے ہیں تو انہیں گھر کی یاد تھوڑا کم ستاتی ہے اور انہیں کچھ اور طرح کی پریشانی لاحق ہوجاتی ہے۔ ایسے میں ان کی مدد کو اس طرح کے گیت آتے ہیں ع ہونٹوں سے چھو لو تم ،میرا گیت امر کردو ایسا زمانہ ابھی گزرا نہیں ہوتا کہ صورت حال تھوڑی مختلف ہوجاتی ہے اور احباب چہرہ دیکھ کر پوچھتے ہیں ؎ تم اتنا جو مسکرا رہے ہو،کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو؟ آنکھوں میں نمی ہنسی لبوں پر،کیا حال ہے کیا دکھا رہے ہو؟ جیسے جیسے دن گزرتے گئے ،دل کا حال بھی بدلتا گیا ۔اگر نہیں بدلا تو وہ دوست نہیں بدلا جس نے ایک اداس شام دل کے دروازے پرپُردرد آواز کی صورت دستک دی اور اس میں جگہ بنا لی۔لوگ کہتے ہیں کہ وہ آواز خاموش ہوچکی۔ممکن ہے کہ ایساہی ہو لیکن وہ آواز جو میرے دل کے کیسٹ پر ریکارڈ ہو چکی وہ کیسے خاموش ہوگی؟

23 اکتوبر ,2011
CopyRight © 2010, All Rights Reserved Supported by www.khabria.pk